پاکستان چائنا انسٹیٹیوٹ (پی سی آئی) کی شریک میزبانی میں ’وبائی صورتحال کے بعد چین اورپاکستان تعاون کے نئے مواقع اور چیلینجز‘ کے موضوع پر دونوں ملکوں کے تھنک ٹینکس ویبنار کا انعقاد کیا گیا۔
اس ویبنار نے سرکاری افسران، معتبرماہرین اور منتظمین کو مل بیٹھنے کا موقع فراہم کیا تاکہ وہ پاکستان اور چین کے درمیان وبائی صورتحال کے بعد دو طرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کرسکیں۔
چینی سفیر یاؤ جنگ اور سینیٹر مشاہد حسین سید اس ویبنار کے اہم مقررین میں شامل تھے۔
سابق وزیر آبادی اور ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ انٹرنیشنل (آر ڈی آئی) کی سربراہ ڈاکٹر بائیج ژاؤ نے اپنے افتتاحی کلمات میں کہا کہ گذشتہ ماہ کی اعلیٰ سطح کی ویڈیو کانفرنس میں بی آر آئی کے ذریعے رابطہ سازی کو بہتر بنانے کے حوالے سے صدر شی جن پنگ کی تقریر عالمگیریت کے ایک نئے عہد کے آغاز کے حوالے سے چین کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایک خطہ ایک سڑک کا منصوبہ (بی آر آئی) امن و استحکام کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔
کورونا بحران کے دوران پاکستان نے چین کو مدد فراہم کی: چینی سفیر
اس موقع پر خطاب میں چینی سفیر یاؤ جِنگ نے کہا کہ وہ وبا شروع ہونے کے بعد ہی سے دونوں ممالک کے مابین باہمی تعاون کا مشاہدہ کر رہے ہیں، چین کو جب کووڈ-19 بحران کا سامنا تھا تو فروری میں پاکستان نے نہ صرف چین کو مدد فراہم کی بلکہ صدر پاکستان عارف علوی نے دورہ چین کے ذریعے یکجہتی کا اظہار بھی کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پہلا ملک ہے جس کے ساتھ چین ویکسین تیار کرنے والی تحقیقی معلومات کا تبادلہ کر رہا ہے۔
سی پیک کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے چینی سفیر کا کہنا تھا کہ سی پیک پراجیکٹس میں 13000 چینی ٹیکنیشن، انجینیئر اور ماہرین کام کر رہے ہیں جب کہ 60000 سے زائد پاکستانی ملازمین بھی کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے کورونا بحران کے تناظر میں پاکستان کے لیے چینی امداد کا بھی ذکر کیا جس کی مالیت 15 ملین ڈالر ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب تک چین سے 10 چارٹرڈ طیارے ماہرین اور آلات لے کر پاکستان پہنچے ہیں اور حکومت پاکستان کی درخواست پر رواں ماہ کے آخر تک 1000 مزید وینٹی لیٹرز پاکستان کو فراہم کیے جائیں گے۔
طاقت کا توازن مغرب سے مشرق کی طرف بڑھ رہا ہے: مشاہد حسین
سینیٹ کی خصوصی کمیٹی برائے اُمور خارجہ کے چیئرمین اور پی سی آئی کے چیئرمین سینیٹر مشاہد حسین نے کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس سرحدوں سے ماورا ہے اور اس بحران نے ہمارے باہمی تعلقات کو مضبوط کیا ہے کیونکہ پاکستان اور چین دونوں ایک دوسرے کے بنیادی مفادات کی حمایت کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس بنی نوع انسان کا مشترکہ دشمن اور اس کے خلاف لڑنا ایک مشترکہ آزمائش ہے، چین نے بروقت اور مؤثر اقدامات کرکے اس وائرس پر قابو پانے کے لیے ایک قابل ذکر کام کیا ہے۔
مشاہد حسین سید نے چین کی جانب سے پاکستان کی حمایت کا بھی شکریہ ادا کیا۔
کورونا بحران سے پیدا ہونے والی آزمائشوں سے متعلق لیگی سینیٹر کا کہنا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنی ترجیحات کو ازسر نو مرتب کریں اور انسانی تحفظ، انسانی ترقی، صحت کی بہتر دیکھ بھال اور ماحولیاتی تبدیلی پر توجہ مرکوز کریں، اس سلسلے میں بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹیو (بی آر آئی) کو مشترکہ مستقبل کے اپنے مقصد کے حصول کے لیے ایک رہنما ذریعے کے طور پر لیا جاسکتا ہے جب کہ طاقت کا توازن مغرب سے مشرق کی طرف بڑھ رہا ہے۔
سینیٹر مشاہد حسین نے چین کے حوالے سے پاکستان کی پارلیمنٹ کی طرف سے منظور کی جانے والی تین قراردادوں کا تذکرہ بھی کیا جن میں 12 فروری کو کووڈ-19 کی صورتحال میں چین کے ساتھ اظہار یکجہتی کی پہلی، مئی میں کورونا کے دوران پاکستان کو امداد کی فراہمی پر چین سے اظہار تشکر کی دوسری، اور جون میں چین اوربھارت تعلقات میں تناؤ کے بعد سفارتی محاذ پر چین کی حمایت کی تیسری قرارداد شامل تھیں۔
پاکستان دنیا میں بہترین سرجیکل سامان بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے: مصطفیٰ حیدر سید
ویبنار میں پاکستان، چائنا انسٹی ٹیوٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مصطفیٰ حیدر سید نے کہا کہ آج کے ویبنار میں دو واقعات کا ذکر کرنا ضروری ہے، ایک چینی صدر شی جن پنگ کا 18 مئی کو ورلڈ ہیلتھ اسمبلی میں اپنے خطاب کے دوران جاری کردہ پالیسی بیان اور دوسرا جون میں بی آر آئی اعلیٰ سطح کی ویڈیو کانفرنس ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دونوں کے اہم نکات میں کچھ مماثلتیں پائی جاتی ہیں جس میں دونوں پالیسیاں وضع کرنے اور جی 20 کے ذریعے ترقی پذیر ممالک کو دیے جانے والے قرضوں میں رعایت دینے کے لیے چین کی حمایت کرنے کے عزم کے بارے میں عوامی طرز عمل کے حوالے سے بات کرتے ہیں۔
کورونا بحران سے متعلق مصطفیٰ حیدر کا کہنا ہے کہ حکومت کو سرجیکل سامان، کھیلوں کے سامان اور طبی سامان پر توجہ دینی چاہیے کیونکہ پاکستان دنیا میں بہترین سرجیکل سامان بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے جب کہ چین اس سلسلے میں پاکستان کی مدد کرسکتا ہے۔
علاوہ ازیں انہوں نے سی پیک کے سلسلے میں ایران کی پالیسی میں حالیہ تبدیلی کو علاقائی رابطے کے لیے نیک شگون قرار دیا جب کہ خصوصی اقتصادی علاقوں پر کام کرنے والے مزدوروں کی صلاحیتوں کو فروغ دینے کی ضرورت اور بی آر آئی کی ترقی میں نجی شعبے کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ خصوصی اقتصادی علاقوں کی ترقی میں چینی تجربات سے استفادہ پاکستان کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔
’کورونا بحران کے دوران کسی پاکستانی کو ملازمت سے نہیں نکالا گیا‘
ویبنار میں اظہار خیال کرتے ہوئے گوادر بندرگاہ کے امور کو چلانے والی کمپنی سی او پی ایچ سی کے سربراہ ژانگ باؤژونگ نے اپنی تقریر میں کہا کہ سی پیک پراجیکٹس میں کام کرنے والا کوئی بھی پاکستانی ملازم کورونا وائرس کے بحران کے دوران نہ اپنی ملازمت سے محروم ہوا ہے اور نہ ہی تنخواہوں میں کوئی کٹوتی دیکھنے میں آئی ہے۔


0 Comments